لاہور کی بڑھتی آبادی اور وسائل کی کمی

لاہور، جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا، آج ایک سنگین مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔ شہر کی آبادی بے تحاشا رفتار سے بڑھ رہی ہے، جبکہ بنیادی وسائل بدستور محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی، بہتر روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی تلاش نے لاہور کو ایک گنجان آباد شہر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس بڑھتی آبادی کے نتیجے میں ٹریفک جام روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں، پینے کے صاف پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں گنجائش سے زیادہ بوجھ ہے، جبکہ ہوا میں آلودگی خطرناک سطحوں کو چھو رہی ہے۔ حکومتی ادارے غیر منصوبہ بند ترقی اور انفراسٹرکچر پر پڑنے والے دباؤ کو سنبھالنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اگر صورتحال پر فوری طور پر توجہ نہ دی گئی تو لاہور میں رہنا ایک مسلسل اذیت بن جائے گا۔ اس مسئلے کا حل متوازن شہری منصوبہ بندی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری، پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری، اور عوامی سطح پر آبادی کنٹرول سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے تاریخی شہر کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں، ورنہ کل کو ہم صرف لاہور کی خوبصورتی کی یادیں ہی باقی رہ جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں