لاہور دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار، AQI خطرناک حدوں سے تجاوز کر گیا

پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت لاہور اس وقت شدید فضائی آلودگی کا شکار ہے اور عالمی سطح پر دنیا کے سب سے آلودہ شہروں کی فہرست میں سرفہرست آ چکا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کئی بار 700 سے بھی تجاوز کر چکا ہے، جو کہ عالمی ماحولیاتی معیارات کے مطابق نہایت خطرناک (Hazardous) سطح ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ AQI اگر 300 سے اوپر ہو تو سانس کے مریضوں، بچوں، بزرگوں، اور حتیٰ کہ صحت مند افراد کے لیے بھی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

اس شدید آلودگی کی کئی بڑی وجوہات ہیں جن میں خاص طور پر زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانا (crop burning)، اینٹوں کے بھٹوں سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں، گاڑیوں کی حد سے زیادہ تعداد اور ان کی ناقص حالت، اور صنعتی فضلہ شامل ہیں۔ سردیوں کے موسم میں “انورژن” (Inversion) کا ماحولیاتی عمل بھی آلودہ ذرات کو فضا میں قید کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں سموگ بنتی ہے – یہ سموگ نہ صرف بینائی متاثر کرتی ہے بلکہ سانس کے نظام کو براہ راست نقصان پہنچاتی ہے۔

موجودہ صورتحال کے باعث لاکھوں شہری متاثر ہو چکے ہیں۔ اسپتالوں اور کلینکس میں سانس کی بیماریوں، کھانسی، گلے کی خرابی، آنکھوں میں جلن اور جلدی مسائل کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بچے، بزرگ اور دائمی مریض اس صورتحال میں خاص طور پر خطرے میں ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے گریزاں ہیں اور گھروں میں بھی N95 ماسک اور ایئر پیوریفائرز کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں