لاہور میں آلودہ پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پنجاب نے ایک بڑے میگا پاور پلانٹ کے قیام کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا جس کے ذریعے شہر بھر میں گندے اور زہریلے پانی کو صاف کر کے قابلِ استعمال بنایا جائے گا۔ لاہور کے متعدد علاقوں میں آلودہ پانی شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔
منصوبے کے مطابق یہ پاور پلانٹ روزانہ لاکھوں گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ اس میں استعمال ہونے والا جدید واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم صنعتی فضلے، نالوں اور گھریلو گندے پانی سے نقصان دہ اجزا کو ختم کرے گا، جس کے بعد صاف پانی کو دوبارہ زرعی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق لاہور میں پانی کی آلودگی نہ صرف زیر زمین پانی کے معیار کو متاثر کر رہی ہے بلکہ دریا راوی میں جا کر آبی حیات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ نئے منصوبے کے ذریعے ان مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔حکومتِ پنجاب نے بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں صنعتی علاقوں میں موجود آلودگی کے مراکز پر توجہ دی جائے گی، جہاں فیکٹریوں کا فضلہ بغیر صفائی کے نالوں میں پھینکا جاتا ہے۔ بعد ازاں منصوبے کو پورے شہر تک وسعت دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “یہ منصوبہ صاف اور صحت مند لاہور کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لاہور صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ صاف، محفوظ اور پائیدار شہر کے طور پر سامنے آئے۔”یہ اقدام ماحولیاتی بہتری، عوامی صحت کے تحفظ اور مستقبل میں پانی کے بحران سے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔







