لاہور میں رات گئے شدید سموگ، فضا آلودگی سے بھری ہوئی

لاہور میں آج رات شدید سموگ کے باعث فضا انتہائی آلودہ اور خطرناک صورتِ حال اختیار کر چکی ہے۔ محکمۂ موسمیات اور ماہرینِ ماحولیات کے مطابق شہر میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن، گلے کی خراش اور جلدی امراض کی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، لاہور کے مرکزی علاقوں جیسے گلبرگ، ماڈل ٹاؤن، ڈیفنس، اقبال ٹاؤن اور شاہدرہ میں حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی ہے، جب کہ رات کے وقت سموگ کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کے مطابق لاہور دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں سرفہرست ہے، جہاں آلودگی کی سطح 400 سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جو صحت کے لیے نہایت نقصان دہ تصور کی جاتی ہے۔

حکومتِ پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا لازمی استعمال کریں، اور بچوں و بزرگوں کو گھر کے اندر ہی محدود رکھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ کی بنیادی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا فضلہ، کچرے اور فصلوں کی باقیات کو جلانا شامل ہے۔

ماحولیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال نہ صرف صحت بلکہ معیشت اور معمولاتِ زندگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ درخت لگانے، صاف ایندھن کے استعمال اور غیر ضروری آلودگی سے اجتناب کر کے اپنے ماحول کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں