لاہور میں زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح کو بلند کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے ایک بڑا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق لاہور کا پانی ہر سال تقریباً ایک سے ڈیڑھ میٹر نیچے جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں تیز شہری تعمیرات، پختہ سڑکیں، سیمنٹ شدہ جگہیں اور بارش کے پانی کا زمین میں جذب نہ ہونا شامل ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے شہر بھر میں 1000 ریچارج ویلز (Recharge Wells) تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جن کے ذریعے بارش اور نکاسی کا صاف پانی دوبارہ زمین میں جذب کر کے زیرِ زمین آبی ذخائر کو بھرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ منصوبہ محکمہ ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت لبرٹی چوک، گلبرگ، جیل روڈ، وحدت روڈ، باغِ جناح اور دیگر اہم مقامات پر ریچارج پوائنٹس بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ علاقوں میں بارش کے پانی کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین ٹینک بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ قیمتی پانی ضائع ہونے کے بجائے دوبارہ قدرتی نظام میں شامل ہو سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات لاہور کے آبی بحران کو قابو میں لانے میں مددگار ثابت ہوں گے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ طویل المدتی بہتری کے لیے شہری سطح پر پانی کے ضیاع میں کمی، نکاسی کے نظام میں بہتری، اور بارش کے پانی کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں لاہور کو ماحولیاتی توازن کی بحالی کی طرف بھی گامزن کرے گا۔







