ملک میں ایل پی جی (LPG) کا بحران سنگین شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں سپلائی میں شدید کمی کے باعث قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ مختلف شہروں میں 11 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت 5 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جو عام صارفین کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بن گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ کی قیمتوں میں واضح فرق ہے، جس کی وجہ سے انہیں مجبوری میں مہنگے داموں گیس خریدنا پڑ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بحران کی کئی وجوہات ہیں جن میں مقامی سطح پر پیداوار کی کمی، درآمدات میں رکاوٹیں اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بعض عناصر کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری نے بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کے باعث مصنوعی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
دیہی اور سرد علاقوں میں ایل پی جی کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے وہاں قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں بھی سپلائی متاثر ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں اور چھوٹے کاروباروں پر بھی اس کے منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مارکیٹ میں مداخلت کر کے قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔







