مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مالدیپ کی حکومت نے ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق مالدیپ نے نہ صرف اسرائیل کے ساتھ سفارتی روابط منقطع کیے ہیں بلکہ ملک میں اسرائیلی مصنوعات کی درآمد اور فروخت پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور خطے میں جاری انسانی بحران پر اپنے مؤقف کو واضح کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
مالدیپ کے حکام کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں ضروری ہے کہ چھوٹے اور بڑے ممالک انسانی حقوق اور انصاف کے لیے واضح مؤقف اختیار کریں۔ اسی لیے حکومت نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے کی حمایت کریں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالدیپ کا یہ قدم سفارتی سطح پر ایک مضبوط پیغام سمجھا جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ دیگر مسلم ممالک بھی اس معاملے پر مزید سخت مؤقف اختیار کریں۔
حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ مالدیپ کا کہنا ہے کہ جب تک صورتحال بہتر نہیں ہوتی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔







