پنجاب حکومت کا بڑا اقدام: موٹر سائیکل سواروں کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار

فضائی آلودگی خصوصاً سموگ، پاکستان کے بڑے شہروں میں ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے، خاص طور پر سردیوں کے آغاز پر جب دھواں، دھول، اور دھند آپس میں مل کر سموگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیگر صنعتی شہروں میں ہوا کا معیار خطرناک حد تک گر چکا ہے، جس کے باعث سانس کی بیماریاں، آنکھوں کی جلن، اور دل کے امراض میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سموگ میں شامل باریک زہریلے ذرات (جیسے PM2.5) نہایت خطرناک ہوتے ہیں جو عام سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر پھیپھڑوں اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں حکومتِ پنجاب نے حالیہ دنوں میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے، کیونکہ بائیک سوار افراد دورانِ سفر براہِ راست آلودہ ہوا کے سامنے ہوتے ہیں اور ان کے لیے بیماری کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق، جو شہری ماسک کے بغیر سفر کرتے پائے گئے، ان پر جرمانے یا قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ماہرینِ صحت نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی ہے اور تجویز دی ہے کہ صرف روایتی کپڑے کے ماسک نہیں بلکہ اعلیٰ معیار کے ماسک جیسے N95 یا KN95 استعمال کیے جائیں، تاکہ مضر ذرات کو بہتر طریقے سے فلٹر کیا جا سکے۔ عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی صحت کے تحفظ کے لیے ماسک کے استعمال کو سنجیدگی سے لیں، خصوصاً وہ افراد جو روزمرہ کے کاموں کے لیے بائیک پر سفر کرتے ہیں۔

یہ اقدامات وقتی طور پر تو مددگار ہیں، مگر ماحولیاتی ماہرین کے مطابق مستقل بہتری کے لیے درخت لگانے، صنعتی اخراج پر قابو پانے، اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ سموگ سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اپنانا ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں