لاہور کے میو اسپتال نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران 21 افراد میں مونکی پاکس (Monkeypox) کی تصدیق ہوئی ہے، جس نے عوام اور طبی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر متاثرہ افراد 20 سے 45 سال کی عمر کے درمیان ہیں، تاہم دو بچے بھی اس مرض کا شکار پائے گئے، جو خطرے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسپتال کے نرس اور دو پیرامیڈیکل اسٹاف اراکین میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جس سے ہسپتال میں احتیاطی اقدامات اور آئسولیشن پروٹوکول کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
میو اسپتال نے مونکی پاکس کے مریضوں کے لیے خاص آئسولیشن وارڈ قائم کیا ہے تاکہ مریضوں کا علیحدہ علاج کیا جا سکے اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران تین افراد اپنی جان بھی گنوا چکے ہیں، جبکہ نو مریض اب بھی علاج کے مراحل میں ہیں۔
ماہرین صحت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہجوم سے گریز کریں، اپنے ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور اگر کسی میں بخار، جلد پر دانے یا دیگر مشکوک علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں۔ اس کے علاوہ، اسپتالوں اور کلینکس میں اسٹاف کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق مونکی پاکس ایک محدود عرصے میں ہی دوسرے افراد میں منتقل ہوتا ہے، لیکن ابتدائی احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص سے اس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے۔







