میذان بینک لمیٹڈ نے 30 ستمبر 2025 تک ختم ہونے والی نو ماہ کی مالیاتی مدت کے لیے 70.52 ارب روپے منافع بعد از ٹیکس (PAT) رپورٹ کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں حاصل ہونے والے 78.33 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد کمی ہے۔ اس کمی کی وجہ بنیادی طور پر کم ییلڈز اور کم منافع بخش سرمایہ کاری کو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، بینک کی فیس اور کمیشن آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا، جو 19.2 فیصد بڑھ کر 21.84 ارب روپے تک پہنچ گئی، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بینک کی غیر سودی آمدنی میں بہتری آئی ہے۔
فی حصص آمدنی (EPS) 38.59 روپے رہی، جبکہ گزشتہ سال یہ 43.42 روپے تھی۔ نو ماہ کے دوران اسلامی مالیات اور سرمایہ کاری پر منافع میں 17.5 فیصد کمی کے ساتھ 312.13 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ ڈپازٹس اور دیگر واجبات پر منافع میں 24.5 فیصد کمی کے ساتھ 123.91 ارب روپے رہے۔ خالص منافع یا واپسی 12.1 فیصد کم ہو کر 188.21 ارب روپے رہی۔ بینک نے شیئر ہولڈرز کے لیے 7 روپے فی حصص ڈویڈنڈ کا اعلان بھی کیا، جس سے سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچا۔
یہ مالیاتی نتائج میذان بینک کی مضبوط مالی پوزیشن اور پاکستان میں اسلامی بینکاری کے شعبے میں اس کے قائدانہ کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ منافع میں کمی ہوئی ہے، لیکن بینک کی متنوع آمدنی اور مضبوط سرمایہ کاری کا ڈھانچہ اسے مستقبل میں بھی مستحکم رکھنے میں مدد دے گا۔ مزید برآں، فیس اور کمیشن آمدنی میں اضافہ اس بات کا عندیہ ہے کہ بینک نے روایتی منافع کے دباؤ کے باوجود اپنی غیر سودی آمدنی کے ذرائع کو کامیابی سے فروغ دیا ہے، جو اس کی کاروباری حکمت عملی کی پختگی اور مالیاتی مستحکمی کی علامت ہے۔







