آج کے دور میں موبائل فون بچوں کی زندگیوں میں ایک عام ضرورت بنتا جا رہا ہے، لیکن اس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے والدین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ موبائل فون جہاں تعلیم اور معلومات کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، وہیں اس کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی، جسمانی اور سماجی صحت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ ذہنی طور پر، زیادہ موبائل استعمال سے بچے بے چینی، ذہنی دباؤ اور توجہ میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ جسمانی طور پر نیند کی کمی، آنکھوں کی کمزوری، گردن اور کمر کے درد جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، موبائل فون کے باعث بچے حقیقی دنیا سے دور ہو کر سماجی تعلقات میں کمی اور دوستانہ روابط میں خلل کا شکار ہو جاتے ہیں، جو ان کی شخصیت کی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہے۔ تعلیمی حوالے سے بھی موبائل کا زیادہ استعمال بچوں کی پڑھائی میں رکاوٹ بنتا ہے اور ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے موبائل استعمال پر حد مقرر کریں، ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں، متبادل کھیل اور مطالعہ کے مواقع فراہم کریں اور خود بھی موبائل کا مناسب استعمال کرکے ایک مثبت مثال قائم کریں۔ اس طرح ہم اپنے بچوں کو موبائل کے نقصانات سے بچا کر ان کی بہتر نشوونما اور خوشگوار مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں
بچوں میں موبائل کا بڑھتا ہوا استعمال: والدین کے لیے خطرے کی گھنٹی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







