دنیا بھر میں مختلف وائرل بیماریوں کے بعد اب مونکی پاکس ایک نئی تشویش بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ بیماری ایک مخصوص وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے جو انسانوں اور جانوروں، خصوصاً بندروں اور چوہوں، میں پایا جاتا ہے۔ مونکی پاکس کی علامات میں بخار، جسم درد، تھکن، اور سب سے اہم جسم پر دانے یا چھالے شامل ہیں جو مریض کے لیے تکلیف دہ ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے خطرناک۔
پاکستان میں اس بیماری کا پہلا کیس 2023 میں رپورٹ ہوا تھا، اور تب سے وقتاً فوقتاً مختلف شہروں میں کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔ 2025 تک خیبر پختونخوا، کراچی، اسلام آباد اور آزاد کشمیر جیسے علاقوں میں مونکی پاکس کے مریض سامنے آ چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ابتدا میں یہ وائرس بیرون ملک سے آنے والے افراد میں پایا گیا، مگر بعد ازاں مقامی سطح پر بھی منتقلی کے شواہد ملے۔ حکومت نے وقتی طور پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی اور مختلف اسپتالوں میں خصوصی وارڈز قائم کیے گئے تاکہ اس بیماری پر قابو پایا جا سکے۔
مونکی پاکس سے بچاؤ ممکن ہے، بشرطے کہ ہم احتیاطی تدابیر کو اپنائیں۔ مریض افراد سے فاصلہ رکھنا، صفائی کا خاص خیال رکھنا، بار بار ہاتھ دھونا، اور مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا نہایت ضروری ہے۔ چونکہ یہ بیماری قریبی جسمانی رابطے سے پھیلتی ہے، اس لیے محتاط رویہ ہی اس کا سب سے مؤثر حل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام میں آگاہی بڑھانے کے لیے تعلیمی اداروں، میڈیا اور مساجد کے ذریعے مہم چلائے، تاکہ اس خطرے کو بڑھنے سے پہلے روکا جا سکے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مونکی پاکس صرف ایک بیماری نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے کہ ہمیں اپنی صحت عامہ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ہے کہ وہ اپنے اور دوسروں کے لیے محتاط اور باخبر رہے۔







