بنکاک میں افسوسناک سانحہ، 18 سالہ طالب علم نے خاتون پرنسپل کو گولی مار دی

بنکاک میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق 18 سالہ طالبِ علم نے مبینہ طور پر اس بات پر شدید ردِعمل دیا کہ اسکول کی خاتون پرنسپل نے اس کی بہن کو کسی معاملے پر ڈانٹا تھا۔ غصے میں آ کر اس نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پرنسپل جاں بحق ہو گئیں۔

یہ سانحہ کئی اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ سب سے پہلے نوجوانوں میں برداشت اور جذباتی کنٹرول کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ معمولی تنازع یا ڈانٹ ڈپٹ جیسے تعلیمی معاملات کو تشدد میں بدل دینا انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ اسکول نظم و ضبط اور تربیت کا مرکز ہوتے ہیں، جہاں اساتذہ کا کردار اصلاح اور رہنمائی کا ہوتا ہے۔

اس واقعے کے بعد سیکیورٹی، اسلحے تک رسائی اور طلبہ کی ذہنی صحت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین اور اساتذہ کو نوجوانوں کے رویوں، غصے اور ذہنی دباؤ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

قانونی طور پر یہ ایک سنگین جرم ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلاف یا شکایت کی صورت میں مکالمہ، صبر اور قانونی راستہ ہی درست حل ہے، تشدد نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں