NCCA افسران 90 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار

قومی احتساب کمیشن (NCCA) کے افسران سے متعلق ایک بڑا اور تشویشناک واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ادارے کے چند اعلیٰ افسران نے ایک خاتون، عروب جتوئی، سے مبینہ طور پر 90 لاکھ روپے رشوت وصول کی۔ اطلاعات کے مطابق، یہ رقم ایک زیرِ تفتیش مقدمے میں نرمی برتنے اور کچھ سرکاری دستاویزات میں ردوبدل کے عوض لی گئی۔

ذرائع کے مطابق، NCCA کے انٹیلی جنس وِنگ کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بعض افسران رشوت کے لین دین میں ملوث ہیں۔ اطلاع کی بنیاد پر خصوصی ٹیم نے کارروائی کی اور متعلقہ افسران کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں، ان کے قبضے سے 90 لاکھ روپے نقد رقم بھی برآمد کر لی گئی۔ گرفتار افسران کو فوری طور پر معطل کر کے تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

NCCA کے ترجمان کے مطابق، ادارہ بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہے اور کسی بھی اہلکار کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ احتساب کرنے والے اداروں کو سب سے پہلے خود کو شفاف رکھنا ہوگا تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔

سیاسی و عوامی حلقوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر احتساب کے اداروں کے اہلکار خود بدعنوانی میں ملوث ہوں گے تو انصاف کا نظام متاثر ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ واقعہ نہ صرف NCCA بلکہ ملک کے دیگر تحقیقاتی و احتسابی اداروں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے اندرونی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں