خواتین کے حقوق اور گھریلو تشدد کے خلاف اقدامات کے سلسلے میں ایک اہم قانونی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت بیوی کو طلاق دینے یا دوسری شادی کرنے کی دھمکی دینا قابلِ سزا جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو ذہنی دباؤ، خوف یا ہراسانی کے لیے طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دے گا تو اس پر تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
قانون سازوں کے مطابق اکثر گھریلو تنازعات میں ایسی دھمکیاں خواتین کو خاموش کرانے اور ان کے حقوق سلب کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جس سے وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوتی ہیں۔ مجوزہ قانون کا مقصد خواتین کو نفسیاتی تشدد سے تحفظ فراہم کرنا اور ازدواجی رشتوں میں احترام اور توازن کو فروغ دینا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف دھمکی دینے کے عمل پر لاگو ہوگا، نہ کہ شرعی یا قانونی طریقے سے دی جانے والی طلاق یا جائز دوسری شادی پر۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ گھریلو قوانین میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس قانون کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری، قواعد و ضوابط کی تیاری اور آگاہی مہم بھی ناگزیر ہوگی۔







