ایران میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے ردِعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے اور کئی ریاستوں نے نئی ایرانی قیادت کے لیے اپنی حمایت اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ روس، چین، آذربائیجان، عراق اور عمان کے رہنماؤں نے ایران کی نئی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے پیغام میں کہا کہ روس ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کو جاری رکھے گا اور دونوں ممالک خطے کے امن و استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کام کرتے رہیں گے۔
اسی طرح چین کی حکومت نے بھی ایران کے فیصلے کو اس کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے نئی قیادت کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعاون جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب آذربائیجان، عراق اور عمان کے رہنماؤں نے بھی مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مشکل حالات میں ایران کی قیادت مؤثر انداز میں کریں گے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔
ماہرین کے مطابق ایران میں نئی قیادت کے سامنے کئی بڑے چیلنجز موجود ہیں، جن میں خطے کی سیاسی صورتحال، عالمی پابندیاں اور اقتصادی مسائل شامل ہیں۔ ایسے میں مختلف ممالک کی جانب سے حمایت کے پیغامات کو ایران کے لیے سفارتی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔







