بھارت میں نیپا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد پاکستان میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وفاقی و صوبائی حکام نے ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق نیپا وائرس کو کووڈ-19 کے مقابلے میں اس لیے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے، جبکہ فی الحال اس بیماری کے لیے کوئی باقاعدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں۔ یہ وائرس عموماً چمگادڑوں اور متاثرہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتا ہے، جس کے باعث خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔
صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں، زمینی سرحدوں اور بندرگاہوں پر سخت اسکریننگ شروع کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ مریض کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ وزارتِ صحت نے ہسپتالوں اور طبی عملے کو الرٹ رہنے، آئسولیشن وارڈز تیار رکھنے اور مشتبہ کیسز کی فوری رپورٹنگ کی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تاحال نیپا وائرس کا کوئی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا، تاہم احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں ۔







