پاکستان میں تین ماہ میں 2.8 ارب آن لائن ٹرانزیکشنز ریکارڈ

پاکستان میں آن لائن لین دین کے شعبے میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں محض تین ماہ کے دوران 2.8 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ ہوئیں جن کی مجموعی مالیت 166 کھرب روپے تک جا پہنچی۔ یہ نمایاں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام اور کاروباری طبقہ تیزی سے روایتی نقدی کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں کو اپناتا جا رہا ہے۔ موبائل بینکنگ ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ، ای والٹس اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے روزمرہ لین دین کو نہ صرف آسان بنایا ہے بلکہ شفافیت میں بھی اضافہ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے اسمارٹ فونز کی بڑھتی ہوئی دستیابی، انٹرنیٹ کی بہتر سہولت، ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کے لیے حکومتی و اسٹیٹ بینک کے اقدامات اور فِن ٹیک کمپنیوں کا فعال کردار شامل ہے۔ آن لائن ادائیگیوں میں اضافے سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے، ٹیکس نیٹ میں وسعت کے امکانات بڑھے ہیں اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملی ہے۔ تاہم، سائبر سیکیورٹی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ جیسے چیلنجز پر توجہ دینا بھی ناگزیر ہے تاکہ ڈیجیٹل معیشت کی جانب یہ سفر محفوظ اور پائیدار ثابت ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں