لاہور کی اورنج لائن میٹرو ٹرین، جو پاکستان کا پہلا میٹرو ٹرین منصوبہ ہے اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک اہم حصہ ہے، اب ایک بڑے اپ گریڈ کے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے حالیہ جائزوں کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ اس منصوبے کی حالت بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، کیونکہ متعدد اسٹیشنز اور ٹریکس پر پانی کا رساو، نکاسی آب کے مسائل، صفائی کی کمی، اور بنیادی سہولیات کی خرابی جیسے مسائل سامنے آئے ہیں، جو روزانہ ہزاروں مسافروں کو پریشان کر رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر مرمت، بحالی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کا کام شروع کرے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے 500 ملین روپے کے فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے، جو پچھلے دو سالوں سے زیر التوا تھے۔ اس اپ گریڈ کے تحت نہ صرف ٹریکس اور اسٹیشنز کی مرمت ہوگی بلکہ ڈرینیج سسٹم کو بہتر بنانے، بیت الخلاء کی حالت سدھارنے، اور اسٹیشنز پر صفائی کے انتظامات بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب عوامی شکایات اور میڈیا رپورٹس میں بار بار یہ نشاندہی کی گئی کہ اورنج لائن جیسے بڑے اور مہنگے منصوبے کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اس کی افادیت متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اپ گریڈ مؤثر انداز میں مکمل کر لیا گیا تو نہ صرف ٹرین سروس کا معیار بہتر ہوگا بلکہ مسافروں کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔
یہ اپ گریڈ نہ صرف ایک ٹیکنیکل بہتری ہے بلکہ شہری سہولیات کے حوالے سے بھی ایک اہم قدم ہے جو لاہور جیسے میگا سٹی میں عوامی نقل و حمل کے نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔







