پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 20 سال بعد براہِ راست پروازوں کا آغاز

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو دہائیوں بعد براہِ راست فضائی سروس بحال کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ حال ہی میں ڈھاکا میں ہونے والی پاکستان-بنگلہ دیش مشترکہ اقتصادی کمیشن (JEC) کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے وزرائے خزانہ، خارجہ اور تجارت سمیت اعلیٰ سطحی حکام شریک تھے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہِ راست پروازیں شروع کی جائیں گی، جنہیں بعد ازاں لاہور اور اسلام آباد تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ یہ پروازیں دونوں ممالک کے مسافروں کے لیے سفر کو نہ صرف آسان بنائیں گی بلکہ کاروبار، سیاحت اور تعلیمی تبادلے کے مواقع کو بھی فروغ دیں گی۔

گزشتہ 20 برسوں سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کوئی براہِ راست فضائی رابطہ موجود نہیں تھا، جس کے باعث مسافروں کو دوسرے ممالک کے ذریعے سفر کرنا پڑتا تھا، جس سے وقت اور اخراجات میں اضافہ ہوتا تھا۔ نئی پروازوں کے آغاز سے یہ مشکلات ختم ہونے کی امید ہے۔

دونوں ممالک نے اس فیصلے کو تعلقات میں بہتری کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ عوامی سطح پر رابطے بھی مضبوط ہوں گے۔ بنگلہ دیش کو کراچی پورٹ تک رسائی دینے اور تعلیمی، ثقافتی تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت جاری ہے۔

یہ فیصلہ جنوبی ایشیائی خطے میں علاقائی رابطوں کے فروغ اور باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک عالمی سطح پر معاشی ترقی اور تجارتی مواقع کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں