رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر کے تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران ایک مخصوص حد تک سرد مہری کا تاثر سامنے آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ میڈیا رپورٹس اور بیانیے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان اور طالبان سے متعلق خبروں کی کوریج پر پاکستان کو قطر کے سرکاری میڈیا نیٹ ورک الجزیرہ کی رپورٹنگ پر تحفظات ہیں، اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس کوریج سے پاکستان کے مؤقف کو مناسب انداز میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ انہی خدشات کے باعث میڈیا سطح پر تنقیدی بیانات اور رپورٹس سامنے آئیں، جنہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کے بارے میں سوالات کو جنم دیا۔
تاہم سفارتی حلقوں کے مطابق یہ صورتحال زیادہ تر میڈیا تاثر اور قیاس آرائیوں تک محدود ہے، کیونکہ سرکاری سطح پر نہ پاکستان اور نہ ہی قطر نے تعلقات میں کسی باضابطہ کشیدگی یا اختلاف کی تصدیق کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی طور پر قریبی اور برادرانہ تعلقات رہے ہیں، جن کی بنیاد باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون، دفاعی روابط اور علاقائی معاملات پر مشاورت پر قائم ہے۔ قطر میں پاکستانی افرادی قوت کی بڑی تعداد موجود ہے اور دونوں ممالک توانائی، سرمایہ کاری اور سفارتی تعاون کے شعبوں میں بھی شراکت داری رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والے تاثر کو اصل سفارتی تعلقات سے الگ دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ عملی طور پر پاکستان اور قطر اب بھی ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک باہمی رابطوں اور سفارتی مکالمے کے ذریعے کسی بھی غلط فہمی کو دور کریں گے اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔







