پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ جانا ملکی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجوہات میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی معاونت، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ، اور برآمدات سے حاصل ہونے والا زرِ مبادلہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات میں نسبتاً کمی اور مالی نظم و ضبط نے بھی ذخائر کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

زرمبادلہ ذخائر میں اضافے سے روپے کی قدر پر موجود دباؤ میں کمی آئی ہے اور کرنسی مارکیٹ میں استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ضروری درآمدات، خاص طور پر تیل، گیس اور صنعتی خام مال کی ادائیگیوں میں سہولت حاصل ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط ذخائر بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی خطرات سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

حکومتی حکام کے مطابق زرمبادلہ ذخائر کا یہ مستحکم ہونا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی امید ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ مہینوں میں مہنگائی پر قابو پانے، معاشی ترقی کی رفتار بہتر بنانے اور مجموعی طور پر معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں