پاکستان میں سیاحت کے شعبے نے حالیہ عرصے میں غیر معمولی ترقی کرتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں ملکی سیاحوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہنزہ، اسکردو، دیامر، سوات، ناران، کاغان اور مری جیسے خوبصورت مقامات سیاحوں سے بھرے رہے، جس سے ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، مقامی دستکاری اور روزگار کے مواقع میں نمایاں بہتری آئی۔
سیاحت کے فروغ کی بڑی وجوہات میں سیکیورٹی کی بہتر صورتحال، نئی سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر، ہوٹلنگ سہولیات میں اضافہ اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے قدرتی حسن کی بھرپور تشہیر شامل ہیں۔ حکومت اور نجی شعبے کی جانب سے ٹورازم فیسٹیولز، ایڈونچر ٹورازم اور ایکو ٹورازم کو فروغ دینے کے اقدامات نے بھی سیاحوں کو راغب کیا۔ ماہرین کے مطابق سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جو نہ صرف قومی معیشت بلکہ دور دراز علاقوں کے عوام کے لیے بھی خوشحالی کا باعث بن رہا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان میں سیاحت کا یہ نیا ریکارڈ ملک کے روشن اور مثبت تشخص کی عکاسی کرتا ہے۔







