ڈرامہ سیریل “پامال” میں قصوروار کے تعین کے حوالے سے ناظرین میں کافی بحث جاری ہے، مگر کہانی کے بہاؤ اور کرداروں کے رویوں کو دیکھتے ہوئے زیادہ تر ذمہ داری رضاپر عائد ہوتی ہے۔ رضا کا کردار ایک ایسے شوہر کے طور پر دکھایا گیا ہے جو بظاہر محبت اور خیال کا اظہار کرتا ہے، مگر دراصل اپنے رشتے میں کنٹرول، خود غرضی اور جذباتی جبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ مالکہ کی رائے، احساسات اور آزادی کو کمتر سمجھتا ہے اور اسے اپنے دائرے میں محدود رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
دوسری جانب ملکہ کا کردار اگرچہ مکمل طور پر بے قصور نہیں، کیونکہ اس نے کچھ فیصلے جذبات میں آکر کیے، مگر وہ زیادہ تر رضا کے رویے اور دباؤ کا شکار بنتی ہے۔ اس کی غلطیاں فہم و ادراک کی کمی سے جنم لیتی ہیں، جبکہ رضا کی غلطیاں انا، طاقت اور خود پسندی سے۔
یوں دیکھا جائے تو “پامال” صرف ایک رومانوی کہانی نہیں بلکہ جذباتی تشدد، خودغرض تعلقات اور عورت کی خودی کی پامالی پر مبنی ایک سماجی پیغام ہے۔ اس لحاظ سے، کہانی کا اصل قصوروار رضا کو قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اسی کے رویے نے رشتے کو تباہی کی طرف دھکیلا۔







