پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) کو بلوچستان میں معدنی وسائل کی تلاش کے لیے مشروط منظوری حاصل ہو گئی ہے۔ یہ منظوری صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں “ایکسپلوریشن لائسنس ایریا EL-207” کے تحت دی گئی ہے، جہاں تانبے اور سونے جیسے قیمتی معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہونے کا امکان ہے۔ کمپنی نے اس منصوبے کے لیے ڈیگان ایکسپلوریشن ورکس (DEW) کے ساتھ ایک مشترکہ معاہدہ (Joint Venture Agreement) کیا ہے، جس میں PPL کا 49 فیصد حصہ ہوگا، جب کہ آپریٹر کا کردار DEW ادا کرے گی، جو فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کا ذیلی ادارہ ہے۔
ابتدائی مرحلے میں تقریباً 11.5 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو تین سال کی مدت میں خرچ ہوگی۔ ذرائع کے مطابق یہ منظوری “ریگولیٹری اور کارپوریٹ اجازتوں” سے مشروط ہے، یعنی منصوبے کے آغاز سے قبل تمام قانونی مراحل اور لائسنسنگ کا عمل مکمل ہونا ضروری ہے۔ حکام کے مطابق بلوچستان کے معدنیاتی وسائل ملک کی معیشت کے لیے بے حد اہم ہیں، اور اس منصوبے سے صوبے میں روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور مقامی ترقی کو فروغ ملنے کی امید ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی تیل و گیس کے شعبے سے آگے بڑھ کر مائننگ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ ملکی وسائل کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے۔







