پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں یا عوام کی پریشانیاں؟

پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ سے مسائل کا شکار رہا ہے، مگر حالیہ برسوں میں جو مسئلہ سب سے زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے، وہ ہے پرائیویٹ اسکولوں کی بے تحاشہ فیسیں۔ تعلیم جو کبھی ایک بنیادی حق سمجھا جاتا تھا، اب ایک مہنگی سہولت بن چکی ہے، جو صرف خاص طبقے تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔

نجی تعلیمی ادارے بلاشبہ معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے فیس اسٹرکچر نے متوسط اور نچلے طبقے کے والدین کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ کہیں داخلہ فیس لاکھوں میں، کہیں ماہانہ فیس ہزاروں میں، اور اوپر سے ہر ماہ کتابیں، یونیفارم، فنڈز اور دیگر چھپے ہوئے اخراجات۔ ایسے میں عام شہری سوال کرتا ہے: کیا بچوں کو تعلیم دلانا جرم بن چکا ہے؟

سرکاری اسکولوں کی حالت زار سب کے سامنے ہے۔ ناقص انفراسٹرکچر، غیر حاضر اساتذہ، اور غیر معیاری نصاب نے والدین کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ قرض لے کر، روزگار چھوڑ کر یا اپنے دیگر ضروری اخراجات محدود کر کے اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھائیں۔ لیکن کب تک؟

افسوس ناک بات یہ ہے کہ اکثر نجی اسکول مکمل طور پر بغیر ریگولیشن کے چل رہے ہیں۔ نہ فیسوں میں کوئی حد ہے، نہ پالیسی۔ والدین کی جانب سے بارہا احتجاج، عدالتوں میں کیسز، اور حکومتی دعوؤں کے باوجود اب تک کوئی مؤثر پالیسی نظر نہیں آتی۔ والدین کے پاس نہ کوئی سننے والا ہے، نہ کوئی سہارا۔

یہ مسئلہ محض تعلیم کا نہیں، بلکہ سماجی ناانصافی کا ہے۔ جب تعلیم امیروں کی جاگیر بن جائے اور غریب اپنے بچوں کے مستقبل سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو جائے، تو یہ کسی بھی معاشرے کے زوال کی نشانی ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں