پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (PSMA) نے حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے چینی کی درآمد کی اجازت دینے کے فیصلے پر شدید تحفظات اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ملک میں اس وقت چینی کی وافر مقدار موجود ہے، اور آنے والے مہینوں میں بھی مقامی پیداوار عوامی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایسے میں درآمد کی اجازت دینا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ یہ اقدام مقامی شوگر انڈسٹری، کسانوں اور قومی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، درآمدی چینی کی کم قیمت کے باعث مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں گرنے کا خدشہ ہے، جس سے شوگر ملز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور گنے کے کاشتکاروں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملے گا۔ مزید برآں، ایسوسی ایشن نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ چینی درآمد کرنے سے قیمتی زرمبادلہ ضائع ہوگا، جو موجودہ معاشی حالات میں ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بن سکتا ہے۔ PSMA نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی کی درآمد سے متعلق فیصلے پر فوری طور پر نظرِ ثانی کرے، اور پالیسی سازی میں مقامی صنعت، کسانوں اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دی جائے۔ ایسوسی ایشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر درآمد کا یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو نہ صرف مقامی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے بلکہ لاکھوں کسان بھی متاثر ہوں گے، جو پہلے ہی مہنگائی اور زرعی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی کی درآمد کی اجازت پر تشویش کا اظہار
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







