پنجاب حکومت نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے سلسلے میں پنجاب بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی آرڈیننس 2025 تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی بورڈز کی کارکردگی میں بہتری، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔
اس آرڈیننس کے مطابق، پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز—جن میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، گوجرانوالہ، سرگودھا، ڈی جی خان اور ساہیوال شامل ہیں—اب ایک نئے مرکزی انتظامی ڈھانچے کے تحت کام کریں گے۔ آرڈیننس میں سب سے نمایاں تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی اب وزیرِ اعلیٰ پنجاب ہوں گے، جبکہ روزمرہ نگرانی اور انتظامی امور کی ذمہ داری سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو سونپی گئی ہے۔
آرڈیننس میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ بورڈز میں موجود خالی آسامیوں پر بھرتی اب صرف سرکاری ملازمین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ نجی شعبے سے اہل، تجربہ کار اور پیشہ ور افراد کو بھی شامل کیا جا سکے گا۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی بورڈز میں جدت اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
مزید یہ کہ، ملازمین کے نظم و ضبط، کارکردگی اور اخلاقی معیار کے لیے نئے قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ آرڈیننس کے سیکشن 20 میں “کارکردگی اور اہلیت” سے متعلق ایک نیا ذیلی قانون شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر افسر اور ملازم کی کارکردگی کی بنیاد پر اس کے تبادلے، ترقی یا معطلی کے فیصلے کیے جا سکیں گے۔
حکومت کے مطابق، یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل کیا جائے گا اور پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد اسے باضابطہ قانون کی شکل دی جائے گی۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر یہ اصلاحات شفاف انداز میں لاگو کی گئیں تو تعلیمی بورڈز کی ساکھ بہتر ہوگی، امتحانی نظام میں بدعنوانی میں کمی آئے گی اور نتائج کے اجرا میں شفافیت بڑھے گی۔
البتہ کچھ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بورڈز کی خودمختاری میں کمی آنے سے سیاسی اثرورسوخ بڑھنے کا امکان ہے، جس سے فیصلوں میں غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود حکومت پرامید ہے کہ یہ ترمیمی آرڈیننس پنجاب کے تعلیمی ڈھانچے کو جدید، مؤثر اور عوام دوست بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔







