کدو کا بادشاہ! نیویارک میں شہری نے 1931 پاؤنڈ کا سب سے بھاری کدو تیار کر لیا

نیویارک کے علاقے Wappingers Falls سے تعلق رکھنے والے ٹونی اسکاٹ نے ایک ایسا کدو اُگا کر سب کو حیران کر دیا جس کا وزن حیران کن طور پر 1931 پاؤنڈ (تقریباً 876 کلوگرام) تھا۔ یہ کدو انہوں نے ایک معروف سالانہ مقابلے کے لیے تیار کیا تھا، جس میں دیو ہیکل کدوؤں کو تول کر جیتنے والوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ٹونی کا کدو پہلا انعام نہ جیت سکا اور تیسرے نمبر پر آیا، لیکن اس کا حجم، رنگت، اور وزن سب کچھ دیکھنے والوں کے لیے باعثِ حیرت تھا۔ یہ کامیابی کوئی اتفاقیہ نہیں بلکہ مسلسل محنت، مشاہدے اور سائنسی طریقے سے کاشت کاری کا نتیجہ تھی۔ ٹونی نے بتایا کہ اس نے کدو کی نشوونما کے دوران خاص قسم کی کھاد، پانی کی باقاعدہ مقدار، اور سردی سے بچانے کے لیے راتوں کو اسے تپائیوں یا کپڑوں سے ڈھانپ کر رکھا تاکہ درجہ حرارت میں اچانک کمی اس کی افزائش کو متاثر نہ کرے۔

مزید یہ کہ کدو کو بیماریوں، پھپھوندی اور کیڑوں سے بچانے کے لیے قدرتی اور سائنسی دونوں طریقے استعمال کیے گئے۔ ہر روز کدو کے سائز اور وزن میں ہونے والی تبدیلی کو نوٹ کیا جاتا، اور اس کے مطابق خوراک اور دیکھ بھال کا منصوبہ تیار کیا جاتا تھا۔ “Weigh-off” نامی یہ مقابلے امریکہ کے مختلف علاقوں میں منعقد ہوتے ہیں، جہاں کسان اور شوقیہ کاشتکار اپنی کاوشوں کو پیش کرتے ہیں۔ ایسے مقابلے صرف انعامات کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے سیکھنے، تجربات کا تبادلہ کرنے اور کاشتکاری کے فن کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔ ٹونی اسکاٹ کی اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر محنت، علم، اور قدرت سے ہم آہنگی ہو، تو ایک عام آدمی بھی غیر معمولی نتائج حاصل کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں