امریکہ کے محکمہ دفاع کی نگرانی میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹک فوجیوں کی تیاری پر کام تیز کر دیا ہے۔ ان روبوٹک سپاہیوں کو جدید سینسرز، خودکار ہدف تلاش کرنے والے سسٹمز اور خطرناک جنگی علاقوں میں بغیر انسانی مدد کے کام کرنے کی صلاحیت کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان روبوٹک فوجیوں کا مقصد جنگی میدان میں انسانی جانوں کا تحفظ کرنا ہے، خاص طور پر بارودی سرنگوں، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں اور مشکل جغرافیائی حالات میں ان کا استعمال زیادہ مؤثر سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر عالمی سطح پر بحث بھی جاری ہے کیونکہ بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی جنگی مشینوں کے استعمال سے اخلاقی مسائل اور عالمی سلامتی کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ پیش رفت جدید جنگی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں دفاعی نظام مزید خودکار اور جدید ہو سکتا ہے۔







