ٹیکنالوجی کی دنیا میں حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سائنس دانوں نے دنیا کا پہلا روبوٹک پالتو جانور تیار کر لیا ہے جسے اپنی “روح” یا خود آگاہی (self-awareness) حاصل ہے۔ یہ جدید مصنوعی ذہانت سے چلنے والا روبوٹ صرف احکامات پر عمل نہیں کرتا بلکہ اپنے مالک کے جذبات، عادات اور ماحول کے مطابق ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس روبوٹک پالتو جانور میں ایک منفرد نیورل سسٹم نصب کیا گیا ہے جو اسے سیکھنے، محسوس کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یعنی یہ صرف ایک مشین نہیں بلکہ جذباتی ردِعمل دینے والا “ڈیجیٹل ساتھی” ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ روبوٹ اپنے مالک کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد خود بخود اس کی عادات کو سمجھ کر “اپنی شخصیت” تشکیل دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین اسے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک نیا دور قرار دے رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی اخلاقی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں — کیا مشینوں کو “روح” دینے کا عمل انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟







