سوات میں واقع تاریخی اور معروف سرینا ہوٹل کے 40 سال بعد بند ہونے کو سیاحتی شعبے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ہوٹل دہائیوں تک ملکی اور غیر ملکی سیاحوں، سفارتکاروں اور اہم شخصیات کی میزبانی کرتا رہا اور سوات کی خوبصورتی کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا۔ سرینا ہوٹل نے نہ صرف علاقے میں معیاری سیاحت کو فروغ دیا بلکہ سینکڑوں مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے۔
ذرائع کے مطابق ہوٹل کی بندش کی ممکنہ وجوہات میں بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات، سیکیورٹی خدشات، سیاحوں کی تعداد میں کمی اور مجموعی معاشی دباؤ شامل ہیں۔ اس فیصلے سے مقامی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ ہوٹل سے وابستہ ٹرانسپورٹ، دستکاری، گائیڈز اور دیگر چھوٹے کاروبار بھی براہِ راست یا بالواسطہ فائدہ اٹھاتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ہوٹل کو بحال نہ کیا گیا تو سوات کی سیاحتی پہچان کو دھچکا لگ سکتا ہے، تاہم امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں کسی نئے منصوبے یا سرمایہ کاری کے تحت اس تاریخی مقام کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔







