حرمین میں فوٹوگرافی پر ممکنہ پابندی—سرکاری اعلان تاحال غیر واضح

سعودی عرب میں حرمین شریفین—مسجد الحرام اور مسجد نبوی—میں فوٹوگرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق پابندی کی خبریں حال ہی میں عالمی اور سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حکام، زائرین کے رش اور عبادت کے دوران بے جا تصویریں بنانے کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں، کیونکہ غیر ضروری فوٹوگرافی نہ صرف دیگر زائرین کی عبادت میں خلل کا باعث بنتی ہے بلکہ ہجوم اور بد نظمی کی وجوہات میں سے ایک سمجھی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کی حرمت، زائرین کی نجی زندگی اور روحانی ماحول کا احترام بھی اس ممکنہ فیصلے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

تاہم اس کے باوجود، اہم بات یہ ہے کہ سعودی وزارتِ حج و عمرہ یا دوسری متعلقہ اتھارٹیز کی جانب سے تاحال کوئی باقاعدہ سرکاری اعلامیہ یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ ابھی غیر حتمی ہے اور عوامی سطح پر شکوک موجود ہیں۔ کچھ میڈیا ادارے اس پابندی کو “نافذ شدہ فیصلہ” قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض معتبر ذرائع اسے “غیر تصدیق شدہ خبر” کہہ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں زائرین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری ہدایات کا انتظار کریں، موجودہ ضابطوں کا احترام کریں اور عبادت کے دوران احترامِ حرمین کو اولین ترجیح دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں