سعودی عرب کی حکومت نے عمرہ ویزا کی مدت میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے ایک نیا ضابطہ نافذ کر دیا ہے، جس کے مطابق اب عمرہ ویزا کی داخلے کی مدت کو تین ماہ سے کم کر کے صرف ایک ماہ (30 دن) کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی زائر ویزا جاری ہونے کے بعد 30 دن کے اندر سعودی عرب میں داخل نہیں ہوتا تو اس کا ویزا خود بخود منسوخ ہو جائے گا۔ اس سے قبل زائرین کو 90 دن کے اندر سفر کرنے کی سہولت حاصل تھی، مگر اب حکومت نے یہ مدت محدود کر دی ہے۔
وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد عمرہ انتظامات کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانا ہے، کیونکہ مملکت میں زائرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور لاکھوں لوگ روزانہ عمرہ ادائیگی کے لیے آ رہے ہیں۔ نئی پالیسی سے انتظامیہ کو ایسے ویزوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی جو جاری تو کیے جاتے ہیں مگر استعمال نہیں ہوتے، جس سے ویزا سسٹم میں شفافیت بڑھے گی۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ویزا کے تحت سعودی عرب میں داخل ہونے کے بعد قیام کی مدت بدستور تین ماہ (90 دن) ہی رہے گی، یعنی زائرین کو عمرہ ادائیگی کے بعد حرمین شریفین میں زیادہ وقت گزارنے کی اجازت ہوگی۔ البتہ اب انہیں ویزا ملتے ہی جلد از جلد سفر کرنا ہوگا تاکہ مقررہ مدت کے اندر داخلہ ممکن ہو سکے۔
سعودی حکام نے عمرہ زائرین اور ٹریول ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس تبدیلی سے متعلق مسافروں کو آگاہ کریں تاکہ کوئی بھی زائر ویزا میعاد ختم ہونے کی وجہ سے سفر سے محروم نہ ہو۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ قدم سعودی عرب کے ’’ویژن 2030‘‘ پروگرام کے تحت زائرین کے نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔







