حکومت نے خاندانی قوانین میں مزید سختی لانے کا عندیہ دے دیا ہے، جس کے تحت پہلی بیوی سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کرنے پر فوجداری کارروائی عمل میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق اگر کوئی شخص پہلی بیوی کی تحریری رضامندی اور متعلقہ یونین کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرتا ہے تو اسے جرمانے، قید یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ، ازدواجی انصاف کو یقینی بنانا اور گھریلو تنازعات میں کمی لانا ہے۔ اکثر کیسز میں بغیر اجازت دوسری شادی پہلی بیوی اور بچوں کے لیے معاشی، ذہنی اور سماجی مسائل کا سبب بنتی ہے، جسے روکنے کے لیے قانون کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ مسلم عائلی قوانین میں پہلے ہی اجازت کی شرط موجود ہے، تاہم سزاؤں کے کمزور ہونے کے باعث اس پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ نئی تجویز کے تحت اس خلاف ورزی کو قابلِ تعزیر جرم بنانے سے قانون کی حیثیت مضبوط ہو جائے گی اور یونین کونسلز کا کردار بھی مزید فعال ہو گا۔
دوسری جانب مذہبی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ حلقوں کا مؤقف ہے کہ اسلام نے مخصوص شرائط کے ساتھ تعددِ ازدواج کی اجازت دی ہے، جبکہ دوسرے حلقے کہتے ہیں کہ انصاف اور رضامندی کے بغیر دوسری شادی اسلامی روح کے بھی خلاف ہے۔







