ملتان، جو برصغیر کی قدیم ترین تہذیبوں اور روحانی روایات کا مرکز رہا ہے، اپنے اندر کئی پراسرار کہانیاں سمیٹے ہوئے ہے۔ انہی میں سے ایک کہانی ہے ایک ایسے درخت کی، جو ملتان کے ایک پرانے اور سنسان قبرستان میں واقع ہے۔ مقامی لوگ اس درخت کو “شیطانی درخت” کے نام سے جانتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے گرد کچھ ایسا ہے جو انسانی فہم سے ماورا ہے۔
یہ درخت ظاہری طور پر تو ایک عام درخت لگتا ہے، لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کے نیچے کھڑے ہوتے ہی عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ رات کے وقت اس درخت سے اکثر بچوں کے رونے، عورتوں کے چلانے اور سرگوشیوں جیسی آوازیں سنائی دیتی ہیں، جبکہ آس پاس کوئی موجود نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے درخت کے اردگرد سفید کپڑوں میں لپٹے ہوئے سائے بھی دیکھے ہیں، جو اچانک نمودار ہو کر غائب ہو جاتے ہیں۔
اس درخت کی ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پر کبھی پرندے نہیں بیٹھتے، اور نہ ہی جانور اس کے قریب جاتے ہیں۔ مقامی بزرگوں کے مطابق کئی سال پہلے ایک عامل یہاں آ کر جادو کی رسمیں انجام دیتا تھا۔ اس نے اس درخت کو اپنے کالے عمل کا مرکز بنایا، اور اسی وقت سے یہ درخت منحوس اور پُراسرار سمجھا جانے لگا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ افراد نے اس درخت کو کاٹنے کی کوشش کی، لیکن ان سب کا انجام خوفناک ہوا۔ ایک مزدور جس نے درخت پر کلہاڑی چلائی، اگلے دن شدید بیمار ہو کر بولنے سے محروم ہو گیا۔ ایک اور شخص جو اسے کاٹنے پر مُصر تھا، وہ درخت سے گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ایسے کئی واقعات کے بعد لوگوں نے درخت کے قریب جانا چھوڑ دیا اور اب وہاں چونے کی لکیریں لگا دی گئی ہیں تاکہ کوئی بھول کر بھی نزدیک نہ جائے۔
مقامی علماء اور روحانی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ یہ درخت “بھاری” ہے۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ یہاں جنّاتی اثرات ہوں یا کالے جادو کی باقیات موجود ہوں، جن کی صفائی اور روحانی تطہیر کے بغیر اس مقام کو محفوظ بنانا ممکن نہیں۔
آج بھی اگر کوئی اس قبرستان کے پاس سے رات کے وقت گزرتا ہے تو دل میں انجانا سا خوف بیٹھ جاتا ہے۔ اکثر لوگ خاموشی سے دعائیں پڑھتے ہوئے وہاں سے گزر جاتے ہیں اور درخت کی طرف نظر تک نہیں ڈالتے۔ کچھ نوجوان تجسس میں وہاں جانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہ بھی واپس آ کر عجیب سی بے چینی، ڈراؤنے خواب یا بیماری کی شکایت کرتے ہیں۔
یہ درخت ایک سوال بن کر آج بھی کھڑا ہے:
کیا یہ محض ایک اتفاق ہے یا واقعی کسی پُراسرار دنیا کی موجودگی کا نشان؟
شاید کبھی کوئی اس کا جواب دے سکے… یا شاید یہ راز ہمیشہ راز ہی رہے۔







