چین نے چاندی کی برآمدات کے لیے نئے اور سخت ضوابط نافذ کر دیے

چین کی جانب سے چاندی کی برآمدات پر نئے ضوابط عالمی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔ ان قوانین کے تحت اب چاندی کی برآمد صرف انہی کمپنیوں کو کرنے کی اجازت ہوگی جنہیں حکومت کی طرف سے خصوصی لائسنس حاصل ہوگا، جبکہ چھوٹے اور نجی برآمد کنندگان کے لیے یہ عمل مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی وسائل پر کنٹرول مضبوط کرنا اور اسٹریٹجک دھاتوں کی غیر ضروری برآمد کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔

چونکہ چین دنیا میں چاندی کی پیداوار، صفائی اور سپلائی چین کا بڑا حصہ سنبھالتا ہے، اس لیے ان پابندیوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں چاندی کی دستیابی کم ہو سکتی ہے۔ اس کمی کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑنے کا امکان ہے، جس سے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاندی نہ صرف زیورات بلکہ الیکٹرانکس، سولر پینلز اور صنعتی مصنوعات میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے اس فیصلے کے اثرات مختلف صنعتوں تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں سرمایہ کار بھی محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں