سندھ کے شہر ڈہرکی کے نزدیک واقع گڑھی یاسین کے علاقے میں تیل اور گیس کے نئے اور بڑے ذخائر دریافت ہونے کی خبر نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک خوشی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ یہ اہم دریافت ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے کی گئی ہے، جو ملک کی نمایاں توانائی کمپنیوں میں شامل ہے۔ کمپنی نے ماری غازیج CFB-1 نامی ایکسپلوریشن ویل سے روزانہ تقریباً 305 بیرل تیل اور 3 ملین مکعب فٹ گیس کی پیداوار شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ذخائر سندھ کے گھوٹکی ضلع میں واقع ہیں اور اس منصوبے کی مکمل ملکیت ماری پیٹرولیم کمپنی کے پاس ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی کی خودکفالت میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس دریافت کے بعد توانائی کے شعبے میں مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ پاکستان اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے اور تیل و گیس کی مقامی پیداوار میں اضافہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس دریافت سے نہ صرف توانائی کی درآمد پر انحصار کم ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ توانائی کی بہتر دستیابی سے صنعتی سرگرمیوں کو تیز رفتاری ملے گی، جس سے نہ صرف ملک کی اقتصادی ترقی کو سہارا ملے گا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے، خاص طور پر ڈہرکی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں۔ اس طرح، اس دریافت سے نہ صرف توانائی کا شعبہ بلکہ سماجی و اقتصادی حالت بھی بہتر ہو گی۔
ماری پیٹرولیم کمپنی نے اس ذخیرے کی مکمل ترقی اور پیداوار میں اضافہ کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں نئے پلانٹس کی تعمیر اور جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی شامل ہے۔ حکومت پاکستان اور توانائی کے ماہرین بھی اس علاقے میں مزید تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش جاری رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو مستقل اور مستحکم بنیادوں پر پورا کیا جا سکے۔ اس دریافت سے پاکستان کی توانائی پالیسی میں ایک نیا باب کھلنے کا امکان ہے، جس سے ملکی خودمختاری میں اضافہ ہو گا اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔ مجموعی طور پر، ڈہرکی میں تیل اور گیس کے یہ نئے ذخائر پاکستان کی توانائی کی صورت حال بہتر بنانے اور مستقبل میں توانائی کے بحران سے نمٹنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔







