شہریوں کے اسمارٹ فونز پر نگرانی بڑھنے کے خدشات

حالیہ رپورٹس میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا تک رسائی کے بڑھتے ہوئے اختیارات کے باعث شہریوں کے اسمارٹ فونز ان کی مرضی کے بغیر نگرانی کے آلات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری یا غیر سرکاری ادارے فون کے کیمرے، مائیک، لوکیشن اور ڈیٹا تک بیک ڈور رسائی حاصل کرلیں تو یہ شہریوں کی پرائیویسی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ چند ممالک میں ایسے قوانین اور ٹیک سسٹمز زیرِ غور ہیں جن کے تحت ادارے ’سیکیورٹی‘ کے نام پر صارفین کے فونز کو ریموٹلی ایکٹیویٹ کر سکتے ہیں، جس سے عام لوگوں کو یہ خوف لاحق ہو گیا ہے کہ کہیں ان کے فون بغیر اطلاع کے “اسپائی کیمرے” تو نہیں بن رہے۔ ٹیک ایکسپرٹس تجویز کرتے ہیں کہ صارفین بیک وقت کیمرہ پرمیشنز، مائیکرو فون ایکسیس اور ایپ پرائیویسی سیٹنگز کا سختی سے جائزہ لیتے رہیں تاکہ وہ غیر محسوس طریقے سے نگرانی کا شکار نہ بنیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں