لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 308 تک جا پہنچا ہے، جس کے باعث لاہور دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سطح “انتہائی غیر صحت مند” قرار دی جاتی ہے، جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ماحولیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج، کوڑا جلانے اور موسمِ سرما میں اسموگ کے بڑھتے اثرات نے فضا کو زہریلا بنا دیا ہے۔ شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن، اور گلے میں خراش جیسی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹرز نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں، ماسک کا استعمال کریں اور بچوں و بزرگوں کو خاص طور پر آلودہ ماحول سے بچائیں۔ دوسری جانب حکومتِ پنجاب نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں صنعتی سرگرمیوں کی نگرانی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی، اور شجر کاری مہم کو تیز کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں لاہور میں اسموگ کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے، جو شہریوں کے لیے سنگین صحت عامہ کا مسئلہ بن سکتی ہے۔







