ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اسپین کا رویہ امریکہ کے ساتھ انتہائی نامناسب رہا، کیونکہ اس نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنے مشترکہ فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ اپنے اتحادیوں سے تعاون کی توقع رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہو، لیکن اسپین نے ایران کے معاملے پر غیر جانبدار مؤقف اختیار کرتے ہوئے براہِ راست فوجی تعاون سے انکار کر دیا۔
ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسپین اسی پالیسی پر قائم رہا تو امریکہ اسپین کے ساتھ اپنی تجارتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے پر غور کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایسے اتحادیوں کی ضرورت ہے جو مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ دوسری جانب اسپین کا مؤقف ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہتا جو خطے میں جنگ کو مزید وسعت دے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ واقعی اسپین کے ساتھ تجارت محدود یا ختم کرتا ہے تو اس کے معاشی اور سفارتی اثرات دونوں ممالک پر پڑ سکتے ہیں، کیونکہ امریکہ اور اسپین کے درمیان اربوں ڈالر کی سالانہ تجارت ہوتی ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ یورپی یونین اور امریکہ کے وسیع تر تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں سفارتی رابطے اس کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔







