پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، سرمایہ کاروں کے 1.02 کھرب روپے ڈوب گئے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ایک مرتبہ پھر شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا، جس نے سرمایہ کاروں کو بری طرح متاثر کیا۔ کاروباری دن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس میں 1.02 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو کہ تقریباً 882 پوائنٹس کے برابر ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا تقریباً 1.02 کھرب روپے سے زائد کا سرمایہ ڈوب گیا، جو کہ حالیہ مہینوں میں اسٹاک مارکیٹ کا سب سے بڑا جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کی مجموعی کیپٹلائزیشن میں نمایاں کمی واقع ہوئی، اور چھوٹے بڑے تمام سرمایہ کاروں کو زبردست نقصان برداشت کرنا پڑا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس شدید مندی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سب سے اہم ملکی اقتصادی صورتحال میں غیر یقینی کیفیت، بجٹ سے قبل مالیاتی پالیسیوں پر خدشات، کمپنیوں کی آمدنی رپورٹس سے متعلق مایوسی، اور عالمی منڈیوں میں جاری منفی رجحان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی، شرح سود میں ممکنہ رد و بدل، اور سیاسی عدم استحکام نے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔

مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر “پرافٹ ٹیکنگ” (Profit Taking) یعنی منافع کمانے کے بعد حصص فروخت کرنے کا رجحان بھی دیکھنے میں آیا، جس نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔ بینکنگ، توانائی، سیمنٹ، اور آٹو سیکٹر کے شیئرز شدید دباؤ کا شکار رہے۔ بڑے مالیاتی ادارے اور غیر ملکی سرمایہ کار بھی محتاط رویہ اختیار کرتے نظر آئے، جس سے لیکویڈیٹی (Liquidity) میں کمی اور مارکیٹ کی گراوٹ مزید بڑھ گئی۔

سرمایہ کار برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک واضح اور مؤثر اقتصادی پالیسی مرتب کرے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں