پاکستان میں ذہنی امراض میں تشویشناک اضافہ، گزشتہ سال ایک ہزار سے زائد خودکشیاں

پاکستان میں ذہنی امراض اور نفسیاتی دباؤ کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑتی جا رہی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ایک ہزار سے زائد افراد نے خودکشی کر کے اپنی جانیں ختم کر لیں، جو کہ ملک میں ذہنی صحت کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی دباؤ، خاندانی جھگڑے، معاشرتی عدم تحفظ اور مستقبل کے حوالے سے عدم یقین شامل ہیں۔ نوجوان اور بالغ دونوں ہی اس دباؤ کا شکار ہیں، جس سے وہ شدید ذہنی تناؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے عوام میں آگاہی نہ ہونے اور علاج کی محدود سہولیات کی وجہ سے کئی افراد بروقت مدد حاصل نہیں کر پاتے۔ اکثر لوگ کسی ماہر نفسیات سے رابطہ کرنے یا کونسلنگ لینے کی بجائے اپنی مشکلات کو اندر ہی اندر برداشت کرتے ہیں، جس سے مسائل بڑھ کر خطرناک حالات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

ماہرین نے حکومت اور معاشرتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ ملک بھر میں ذہنی صحت کے مراکز قائم کیے جائیں، مفت یا کم خرچ کونسلنگ سروسز فراہم کی جائیں اور عوام میں ذہنی دباؤ اور خودکشی کے خطرات کے بارے میں آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ ساتھ ہی، انہوں نے معاشرتی سطح پر یہ بھی زور دیا کہ ایسے افراد کے ساتھ ہمدردی، تعاون اور مثبت گفت و شنید کی جائے تاکہ وہ تنہائی اور مایوسی سے باہر نکل سکیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت کے بارے میں تربیتی پروگرامز متعارف کرانا، والدین اور اساتذہ کو تربیت دینا اور نوجوانوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے ذہنی امراض اور خودکشی کے واقعات کو کم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں