دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات اس وقت ایک حیران کن آسمانی منظر کے گواہ بنے، جب نیا دریافت ہونے والا دنبُد C/2025 K1 (ATLAS) سورج کے قریب سے گزرتا ہوا تباہ ہونے کے بجائے مزید روشن اور دلکش ہو گیا۔ عام طور پر جب کوئی دنبُد سورج کے قریب پہنچتا ہے تو شدید حرارت کے باعث بکھر جاتا ہے، لیکن یہ دنبُد نہ صرف برقرار رہا بلکہ اپنی دم میں سنہری اور سرخی مائل روشنی پیدا کرنے لگا، جو اسے دیگر تمام دنبُدوں سے منفرد بنا دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دنبُد کی یہ چمکدار سنہری رنگت دراصل اس میں موجود مخصوص کاربن ذرات کی کمی کی وجہ سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دنبُد عام دنبُدوں کی طرح سبز یا نیلا نہیں بلکہ سنہری رنگ کا نظر آ رہا ہے۔ اسے جدید فلکیاتی آلات کی مدد سے 8 اکتوبر کو سورج کے انتہائی قریب دیکھا گیا تھا، اور توقع ہے کہ 25 نومبر کے آس پاس یہ زمین کے قریب ترین فاصلے پر ہوگا۔
یہ دنبُد آنے والے دنوں میں دنیا کے مختلف حصوں سے صبح یا شام کے وقت ننگی آنکھ یا بائنوکولر کے ذریعے دیکھا جا سکے گا۔ فلکیاتی ماہرین اسے “کائنات کا سنہری فیتہ” قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف ایک سائنسی معجزہ ہے بلکہ قدرت کی خوبصورتی کا حیران کن مظہر بھی۔
یہ منظر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کائنات میں اب بھی وہ راز پوشیدہ ہیں جنہیں انسان ابھی دریافت کرنے کی کوشش کر رہا ہے — اور یہ دنبُد، ان ہی رازوں کی ایک چمکتی جھلک ہے۔







