سپریم کورٹ آف پاکستان نے حال ہی میں ایک اہم اور حساس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے اُس حکم کو معطل کر دیا ہے جس کے تحت افغان شہری، جو پاکستانی خواتین سے شادیشُدہ ہیں، پاکستانی شہریت کے حقدار قرار دیے گئے تھے۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی اپیل پر دیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ملکی شہریت کے قوانین کے خلاف ہے اور اس سے غیر ملکیوں کے غیر قانونی قیام کو فروغ مل سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے عبوری فیصلے میں کہا کہ صرف شادی کا بندھن کسی غیر ملکی کو خودکار طور پر پاکستانی شہریت حاصل کرنے کا حق نہیں دیتا۔ عدالت کے مطابق، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا متعلقہ افغان شہری پاکستان میں قانونی طور پر داخل ہوا ہے یا غیر قانونی طریقے سے۔ عدالت نے مزید کہا کہ شہریت ایک سنگین اور آئینی معاملہ ہے جسے مکمل قانونی جانچ پڑتال کے بغیر نہیں دیا جا سکتا۔
وفاقی حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا شہریت قانون (Pakistan Citizenship Act 1951) واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ غیر ملکی مرد پاکستانی خاتون سے شادی کے بعد بھی اُس وقت تک شہریت کے لیے اہل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ مخصوص شرائط پوری نہ کرے اور قانونی طریقے سے رہائش اختیار نہ کرے۔ عدالت نے حکومت کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت ملک بھر میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ ہزاروں ایسے افغان شہری موجود ہیں جنہوں نے پاکستانی خواتین سے شادی کی ہے اور شہریت یا پاکستان آرِجن کارڈ (POC) کے حصول کے لیے درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے فی الحال ان درخواستوں پر عمل روک دیا گیا ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ محض عارضی فیصلہ ہے اور حتمی فیصلہ تفصیلی سماعت کے بعد دیا جائے گا۔
یہ مقدمہ نہ صرف قانونی بلکہ انسانی اور سماجی پہلوؤں سے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے سرحدی شادیوں، شہریت کے حقوق، اور خواتین کے ازدواجی و خاندانی مسائل پر بھی اثر پڑے گا۔







