کامیابی کبھی عمر کی محتاج نہیں ہوتی — اس بات کو سچ کر دکھایا ہے پاکستان کے ذہین اور باصلاحیت بچے تیمور وسیم نے، جس نے صرف 8 سال کی عمر میں دنیا بھر سے آئے ذہین دماغوں کو شکست دے کر ملیشیا میں ہونے والی انٹرنیشنل اسکریبل چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں، بلکہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے نہ صرف اس کم عمر سپوت کے والدین، اساتذہ اور ساتھیوں کو فخر سے سر اٹھانے کا موقع دیا، بلکہ پوری قوم کو خوشی اور امید کی نئی کرن دی۔
تیمور وسیم کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے، مگر اس کی ذہانت، الفاظ پر عبور، اور سیکھنے کا جنون کسی بھی امیر ترین تعلیمی ادارے میں پڑھنے والے بچے سے کم نہیں۔ وہ اسکول کے ساتھ ساتھ ذہنی کھیلوں، خاص طور پر اسکریبل، میں بھرپور دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کی اس شوق کو اُس کے والدین اور اساتذہ نے پوری حمایت دی، جس کا نتیجہ آج پوری دنیا کے سامنے ہے۔
انٹرنیشنل اسکریبل چیمپئن شپ میں دنیا بھر سے بچوں نے شرکت کی، جن میں سے کئی ایسے ممالک سے تھے جہاں تعلیمی سہولیات اور ٹریننگ کے اعلیٰ ترین مواقع موجود ہیں۔ لیکن تیمور نے اپنی خداداد صلاحیت، بھرپور تیاری، اور اعتماد کے ساتھ ان سب کو شکست دی۔ یہ مقابلہ نہ صرف ایک زبان کا کھیل تھا بلکہ دماغی طاقت، فوری فیصلے، اور الفاظ کے ذخیرے کا امتحان بھی تھا — جس میں تیمور نے سب کو حیران کر دیا۔
اس کامیابی سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ پاکستان کے بچے کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں، بس انہیں رہنمائی، سہولیات، اور عالمی سطح پر نمائندگی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ تیمور کی جیت نہ صرف اس کی ذاتی کامیابی ہے، بلکہ یہ پاکستان کے تعلیمی و ذہنی استعداد کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
تیمور وسیم اب نہ صرف ایک “رائزنگ اسٹار” ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے ایک مثالی کردار بن چکا ہے۔ اس کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ہم اپنے بچوں پر یقین کریں، ان کے شوق کو سہارا دیں، اور انہیں دنیا کے سامنے لائیں، تو وہ ہر سطح پر ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔







