حکومت پاکستان نے رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ میں پٹرولیم مصنوعات پر مجموعی طور پر 828 ارب روپے محصولات کے طور پر جمع کیے ہیں۔ اس میں فی لیٹر پٹرول پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات شامل ہیں۔ مالیاتی حکام کے مطابق یہ محصولات ملکی بجٹ کی آمدنی میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں، تاہم اس کے ساتھ ہی عوام پر اقتصادی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پٹرول پر بھاری ٹیکس کی وجہ سے نہ صرف ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایے اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر پڑتا ہے، خاص طور پر عام شہریوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو ٹیکس کی شرح اور عوام پر بوجھ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اقتصادی دباؤ کم سے کم ہو۔ دوسری جانب، حکومت کا موقف ہے کہ پٹرول پر یہ محصولات بجٹ خسارے کو پورا کرنے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہم ہیں۔







