پنجاب کے شہریوں میں میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین کے لیے استعمال ہونے والے T-Cash کارڈ کی قیمت میں دگنا اضافہ ایک نمایاں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اگرچہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ کارڈ کی اصل قیمت اب بھی 130 روپے ہی ہے، مگر صارفین کے مطابق حقیقت میں کارڈ حاصل کرنے کے اخراجات 260 روپے تک پہنچ چکے ہیں، کیونکہ اس میں 130 روپے کی ڈلیوری فیس بھی لازمی شامل کر دی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے باعث وہ مسافر جو روزانہ ان ٹرانسپورٹ سروسز پر انحصار کرتے ہیں، اضافی خرچے سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔
بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو کم از کم ری چارج یا خریداری کے لیے سستی یا مفت سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں، کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ بنیادی سہولتوں میں شمار ہوتی ہے، اور اس پر اچانک آنے والا مالی بوجھ عام آدمی کے لیے مشکلات بڑھا دیتا ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ اضافہ صرف ہوم ڈلیوری چارجز کی وجہ سے ہے تو عوام کو کارڈ دستی طور پر خریدنے یا ری پلیسمنٹ کے لیے ایسے مراکز فراہم کیے جائیں جہاں انہیں اضافی رقم نہ دینی پڑے۔ اس تمام صورتِ حال نے شہریوں میں چہ مگوئیاں اور سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا مستقبل میں کرایوں یا دیگر سروس چارجز میں بھی اضافے کا امکان موجود ہے یا نہیں۔
T-Cash کارڈ کی قیمت دگنی؛ مسافروں پر اضافی مالی بوجھ







