ٹیلی نار کا پاکستان سے اخراج 2026 تک مؤخر ہونے کا امکان

ٹیلی نار گروپ کی جانب سے پاکستان سے کاروباری اخراج کا عمل تاخیر کا شکار ہو گیا ہے، اور اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ عمل سال 2026 تک مکمل ہو پائے گا۔ اگرچہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کو ٹیلی نار پاکستان کے حصول کی منظوری دے دی ہے، لیکن متعدد انتظامی، مالیاتی اور ریگولیٹری مراحل ابھی باقی ہیں۔ ٹیلی نار نے اپنی تازہ مالیاتی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ پاکستان سے اس کی حتمی واپسی “2026 تک موخر” ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سودے کی تکمیل کے لیے دیگر اداروں جیسے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) کی منظوری بھی درکار ہے۔

رپورٹس کے مطابق، پی ٹی سی ایل جو کہ اتصالات گروپ کا حصہ ہے، نے ٹیلی نار پاکستان کے اثاثے اور لائسنس خریدنے کا معاہدہ کیا تھا تاکہ ملکی ٹیلی کام مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔ تاہم، اس سودے کی تاخیر کی وجوہات میں معاشی غیر یقینی حالات، شرحِ مبادلہ میں اتار چڑھاؤ، اور لائسنسوں کے منتقلی سے متعلق پیچیدہ قانونی تقاضے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، قرضوں، سرمایہ کاریوں اور ادائیگیوں کے معاملات بھی فریقین کے درمیان مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹیلی نار پاکستان ملک کے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بڑا کھلاڑی ہے، جس کے صارفین کی تعداد چار کروڑ کے قریب ہے۔ اگر پی ٹی سی ایل گروپ کے تحت یہ انضمام مکمل ہو جاتا ہے، تو پاکستان میں موبائل سروسز کی مارکیٹ تین بڑی کمپنیوں — جاز، زونگ، اور یو فون-ٹیلی نار اتحاد — تک محدود ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی طور پر یہ انضمام صنعت کے استحکام اور سروس کے معیار میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے، تاہم فی الحال صارفین کو اس تبدیلی کے اثرات دیکھنے کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا کیونکہ ٹیلی نار کی پاکستان سے مکمل روانگی 2026 تک متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں