ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتیں قابو سے باہر ہو چکی ہیں اور یہ بحران تاحال ختم نہیں ہو سکا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق گندم کی قیمت فی من 4,500 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب 10 کلو آٹے کا تھیلا 940 روپے یا اس سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے، جب کہ آٹے کی فی کلو قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 15 سے 20 روپے تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ذخیرہ اندوزی، سپلائی میں کمی، بڑھتے پیداواری اور ترسیلی اخراجات اور کمزور سرکاری نگرانی اس مہنگائی کی بڑی وجوہات ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کر دیا ہے، اور جب تک گندم کی سپلائی اور قیمتوں پر مؤثر کنٹرول نہیں کیا جاتا، اس بحران کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔
گندم اور آٹے کی قیمتیں قابو سے باہر، بحران برقرار
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







